Pakistan oil crisis, fuel prices and Iran war risks in 2026Pakistan’s rising fuel prices are increasingly connected to the wider Iran war, shipping disruption and regional geopolitical risks.
Pakistan oil crisis and foreign policy balancing amid Iran war
Pakistan’s fuel-price shock is becoming inseparable from its energy dependence, regional alliances and diplomatic balancing act.

پاکستان کا تیل بحران: ایران جنگ سے ملنے والے 5 بڑے سبق

Date & Time: 11 September 2026

خلاصہ — Key Takeaway

پاکستان میں پٹرول کی قیمت کا تازہ اضافہ محض ایک اور fuel-price revision نہیں ہے۔ یہ اس بڑے مسئلے کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی Pakistan Oil Crisis اب صرف وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن یا OGRA کی فائلوں تک محدود نہیں رہی۔

11 ستمبر سے پٹرول Rs370.80 فی لیٹر جبکہ High-Speed Diesel Rs398.04 فی لیٹر ہو چکا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز سے پٹرول میں تقریباً Rs24.93 فی لیٹر اور HSD میں تقریباً Rs19.99 فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ اگلی مرتبہ پٹرول کتنے روپے مہنگا ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا پاکستان ایک ایسے عالمی energy shock کے لیے تیار ہے جس میں جنگ، shipping، foreign policy، inflation، defence commitments اور imported fuel ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں؟

FACELESS MATTERS کے تجزیے میں یہی موجودہ Pakistan Oil Crisis کا سب سے اہم پہلو ہے۔


یہ صرف پٹرول کی قیمت کا مسئلہ کیوں نہیں؟ — Why This Matters

پاکستان عالمی crude oil کی قیمت مقرر نہیں کرتا۔

پاکستان Strait of Hormuz میں ہونے والی کشیدگی کو کنٹرول نہیں کرتا۔

پاکستان یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ Iran-US conflict کب ختم ہوگا۔

لیکن پاکستان ان تمام shocks کے نتائج ضرور برداشت کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ Pakistan Oil Crisis کو صرف “مہنگا پٹرول” کہنا مسئلے کو بہت چھوٹا کر دینا ہوگا۔

ایک عالمی conflict پہلے shipping cost بڑھا سکتا ہے۔

پھر insurance premium بڑھتا ہے۔

اس کے بعد crude oil مہنگا ہوتا ہے۔

پھر imported petroleum products کی قیمت بڑھتی ہے۔

پھر transport costs بڑھتے ہیں۔

اس کے بعد food، manufacturing، logistics اور business operations پر دباؤ آتا ہے۔

آخرکار عام گھرانے تک اس shock کا اثر پہنچتا ہے۔

یہ ایک ایسی chain ہے جس میں جنگ ہزاروں کلومیٹر دور ہو سکتی ہے، مگر اس کا economic effect کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ تک پہنچ سکتا ہے۔


موجودہ صورتحال کیا بتا رہی ہے؟ — What the Numbers Say

11 ستمبر کو پاکستان میں petrol Rs370.80 اور HSD Rs398.04 فی لیٹر پر پہنچا۔ Dawn کے مطابق حکومت نے petrol میں Rs3.05 اور diesel میں Rs5.37 فی لیٹر اضافہ کیا، جبکہ جولائی میں عالمی oil-market volatility کے باعث petroleum prices کو daily adjustment mechanism پر منتقل کیا گیا تھا۔

یہ تبدیلی ایک اہم حقیقت ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان کا fuel-pricing system اب عالمی oil volatility کو زیادہ تیزی سے domestic market تک منتقل کر رہا ہے۔

یہ نظام ایک لحاظ سے شفافیت اور market linkage بڑھا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف عام صارف کو عالمی shock کا اثر زیادہ تیزی سے محسوس بھی ہو سکتا ہے۔

حکومت نے خود petroleum pricing framework میں زیادہ predictability، transparency اور price shocks سے consumer protection کے لیے reforms پر کام کیا ہے، جبکہ petroleum pricing committee نے emergency situations کے لیے possible price-shock triggers اور corrective measures پر بھی غور کیا ہے۔

یہاں اصل policy challenge پیدا ہوتا ہے:

Market-based pricing ضروری ہو سکتی ہے، مگر market shock absorption بھی ضروری ہے۔


سبق نمبر 1 — Energy Security دراصل Foreign Policy ہے

پاکستان کی Pakistan Oil Crisis ہمیں سب سے پہلا سبق یہ دیتی ہے کہ energy security کو foreign policy سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اگر کسی ملک کا oil اور LNG supply chain ایسے maritime routes سے گزرتا ہو جو geopolitical conflict سے متاثر ہو سکتے ہیں، تو energy imports خود ایک strategic vulnerability بن جاتے ہیں۔

Pakistan Institute of Development Economics نے اپنی 2026 analysis میں واضح کیا ہے کہ Strait of Hormuz پاکستان کے لیے دور کا geopolitical مسئلہ نہیں رہا؛ پاکستان کے oil imports اور Qatar سے LNG supplies اس maritime corridor کی stability سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو energy policy میں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ:

“ہم کتنے barrels خرید رہے ہیں؟”

بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے:

ہم کتنے مختلف routes، suppliers اور contingency arrangements رکھتے ہیں؟

یہ فرق معمول کے حالات میں شاید نظر نہ آئے۔

جنگ کے دوران یہی فرق survival strategy بن جاتا ہے۔


سبق نمبر 2 — پاکستان Mediator بھی ہے، مگر Stakeholder بھی

موجودہ بحران کا شاید سب سے پیچیدہ پہلو پاکستان کی foreign-policy position ہے۔

ایک طرف پاکستان سعودی عرب کے ساتھ defence relationship مضبوط کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے۔

تیسری طرف Islamabad خود Iran-US conflict میں de-escalation اور diplomacy کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Reuters کے مطابق موجودہ Saudi-Houthi escalation نے پاکستان کو اس مشکل balancing act کے مزید قریب پہنچا دیا ہے۔ پاکستان سعودی defence partner بھی ہے اور Tehran کے ساتھ diplomatic communication برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

یہاں Pakistan Oil Crisis اور foreign policy ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

اگر پاکستان کسی ایک فریق کے بہت قریب جاتا ہے تو دوسرا relationship متاثر ہو سکتا ہے۔

اگر پاکستان مکمل neutrality اختیار کرتا ہے تو اپنے strategic partners کی expectations پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اور اگر پاکستان کسی military confrontation میں براہِ راست شامل ہو جاتا ہے تو energy security، trade، remittances اور domestic economic stability پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے موجودہ صورتحال میں سب سے قیمتی پاکستانی asset شاید صرف military capability نہیں بلکہ strategic restraint بھی ہے۔


سبق نمبر 3 — Defence Alliances کے Economic Consequences بھی ہوتے ہیں

پاکستان، سعودی عرب اور Türkiye کے درمیان نئی defence cooperation کو صرف military lens سے دیکھنا کافی نہیں۔

ایک defence partnership کے economic implications بھی ہوتے ہیں۔

FACELESS MATTERS پہلے ہی Makkah Defence Alliance کے institutional development اور پاکستان کے کردار کا جائزہ لے چکا ہے۔

Makkah Defence Alliance: 5 Essential Facts for Pakistan

یہ alliance پاکستان کے لیے diplomatic influence، defence cooperation اور investment opportunities پیدا کر سکتا ہے۔

لیکن ہر strategic commitment کے ساتھ ایک دوسری ذمہ داری بھی آتی ہے:

کیا پاکستان اپنی economic capacity کے مطابق اپنی strategic commitments کو sustain کر سکتا ہے؟

یہ سوال آج پہلے سے زیادہ اہم ہے۔

کیونکہ اگر regional security commitments بڑھیں اور اسی وقت Pakistan Oil Crisis بھی شدید ہو جائے تو حکومت کو defence، fuel، subsidies، inflation control، foreign exchange اور public spending کے درمیان زیادہ مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

اس لیے foreign policy کو economic capacity سے الگ سوچنا اب ممکن نہیں۔


سبق نمبر 4 — $100 Oil صرف ایک Number نہیں

عالمی crude oil کی قیمت اس ہفتے دوبارہ $100 سے اوپر گئی۔

Reuters کے مطابق جمعہ کو Brent crude تقریباً $104 کے آس پاس تھا اور ہفتہ وار بنیاد پر oil prices بڑی تیزی سے اوپر جانے کی راہ پر تھیں، جبکہ Middle East shipping disruptions نے supply concerns کو بڑھایا۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ International Energy Agency نے 2026 میں global oil supply کے outlook کو مزید کمزور کیا اور Middle East disruptions کے باعث تقریباً 5.7 million barrels per day کی supply decline کا اندازہ دیا۔

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف crude price نہیں۔

مسئلہ ہے:

Crude + freight + insurance + exchange rate + refining + taxes + distribution + domestic demand

یہ تمام elements مل کر final consumer price بناتے ہیں۔

اسی لیے Pakistan Oil Crisis کا اثر petrol pump سے بہت پہلے شروع ہو سکتا ہے۔

ایک factory اپنی transport cost میں اضافہ محسوس کرتی ہے۔

ایک farmer diesel cost میں اضافہ محسوس کرتا ہے۔

ایک retailer delivery cost میں اضافہ محسوس کرتا ہے۔

ایک airline aviation fuel pressure محسوس کرتی ہے۔

ایک family grocery prices میں اس کا اثر دیکھتی ہے۔


سبق نمبر 5 — اصل حل Subsidy نہیں، Resilience ہے

یہ شاید سب سے مشکل مگر سب سے اہم سبق ہے۔

جب fuel prices بڑھتی ہیں تو سیاسی دباؤ عموماً ایک ہی سمت جاتا ہے:

قیمت روکیں۔

لیکن اگر عالمی oil price، shipping cost اور supply risk مسلسل بڑھ رہے ہوں تو ہر shock کو subsidy کے ذریعے absorb کرنا حکومت کے لیے طویل مدت میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ vulnerable households کو support نہیں ملنی چاہیے۔

بلکہ بہتر سوال یہ ہے:

کیا support targeted ہو سکتی ہے؟

مثلاً:

  • low-income households کے لیے targeted relief؛
  • public transport کے لیے focused support؛
  • agriculture کے لیے temporary protection؛
  • essential logistics کے لیے emergency measures؛
  • strategic fuel reserves؛
  • diversified import routes؛
  • LNG supply contingency planning؛
  • اور energy efficiency میں investment۔

یہ approach blanket subsidy سے زیادہ sustainable ہو سکتی ہے۔


Pakistan Oil Crisis کا ایک اور خطرہ — Inflation

پاکستان کی Pakistan Oil Crisis کو inflation سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

Fuel price increase کا پہلا اثر transportation پر آتا ہے۔

پھر freight۔

پھر food distribution۔

پھر manufacturing۔

پھر services۔

پھر household budgets۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک international geopolitical crisis domestic political issue بن جاتا ہے۔

اگر households کو بار بار fuel price increases کا سامنا ہو تو حکومت کی economic policy پر public confidence بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی لیے fuel pricing صرف economic formula نہیں۔

یہ political economy کا بھی مسئلہ ہے۔


کیا پاکستان کے پاس کچھ مثبت buffers بھی ہیں؟ — The Other Side

Opinion کا مطلب یہ نہیں کہ ہر development کو منفی سمجھا جائے۔

پاکستان کے لیے کچھ مثبت signals بھی موجود ہیں۔

State Bank data کے مطابق August 2026 میں workers’ remittances تقریباً $3.656 billion رہیں۔

Remittances پاکستان کے external account کے لیے اہم buffer ہیں۔

اسی طرح Pakistan نے debt management میں بھی کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں wider fiscal-management strategy کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن یہاں احتیاط ضروری ہے۔

ایک مثبت indicator پورے economic risk کو ختم نہیں کرتا۔

اسی طرح ایک fuel-price increase کا مطلب economic collapse بھی نہیں۔

اصل چیز buffers کی مجموعی strength ہے۔


Pakistan کو اب کیا کرنا چاہیے؟ — What Should Islamabad Do?

FACELESS MATTERS کے نزدیک موجودہ Pakistan Oil Crisis کا جواب پانچ فوری اور پانچ long-term priorities میں ہونا چاہیے۔

فوری ترجیحات

1. Fuel supply visibility

حکومت کو واضح اور باقاعدہ انداز میں بتانا چاہیے کہ available fuel stocks کتنے دنوں کے لیے کافی ہیں اور supply routes کس حد تک محفوظ ہیں۔

2. Price transparency

Daily pricing mechanism کے ساتھ عوام کو international benchmark، exchange-rate impact، taxes اور other components کی واضح information دینی چاہیے۔

3. Targeted relief

اگر price shock مزید بڑھتا ہے تو blanket subsidy کے بجائے targeted assistance زیادہ sustainable ہو سکتی ہے۔

4. Diplomatic de-escalation

پاکستان کو اپنی diplomatic role کو زیادہ فعال رکھنا چاہیے، مگر کسی ایسے commitment سے گریز کرنا چاہیے جو اسے براہِ راست conflict میں دھکیل دے۔

5. Energy contingency planning

Hormuz اور Red Sea disruptions کے لیے alternative routes، storage اور supply arrangements پہلے سے تیار ہونے چاہئیں۔


طویل مدت کی پانچ ترجیحات — The Bigger Reform Agenda

1. Energy diversification

پاکستان کو oil، LNG اور electricity کے لیے زیادہ diversified supply architecture بنانا ہوگا۔

2. Strategic reserves

Global energy shock کے خلاف reserves صرف commercial issue نہیں بلکہ national-security issue بھی ہیں۔

3. Logistics reform

اگر shipping route تبدیل ہو تو پاکستان کے ports، rail، roads اور customs systems alternative supply chains کو کتنی جلدی support کر سکتے ہیں؟

یہ سوال اب بنیادی economic-security question بن چکا ہے۔

4. Export growth

جتنا زیادہ پاکستان foreign exchange earn کرے گا، اتنا ہی imported energy shock absorb کرنا آسان ہوگا۔

5. Regional diplomacy

پاکستان کو Saudi Arabia، Türkiye، Iran، Gulf states، China، United States اور دیگر partners کے ساتھ ایسا diplomatic balance برقرار رکھنا ہوگا جو economic interests اور security commitments دونوں کو protect کرے۔


FACELESS MATTERS Analysis — اصل مسئلہ کہاں ہے؟

ہماری رائے میں موجودہ Pakistan Oil Crisis کا سب سے بڑا خطرہ Rs370.80 کا petrol نہیں۔

اصل خطرہ dependency without resilience ہے۔

اگر پاکستان imported energy پر dependent ہے، shipping routes vulnerable ہیں، foreign exchange محدود ہے، inflation حساس ہے اور regional conflicts بڑھ رہے ہیں تو ایک external shock کئی domestic problems کو ایک ساتھ activate کر سکتا ہے۔

لیکن یہی crisis ایک opportunity بھی بن سکتی ہے۔

پاکستان اس موقع کو استعمال کرکے:

energy diversification + strategic reserves + export growth + logistics reform + diplomatic balancing

کو ایک ہی national strategy کا حصہ بنا سکتا ہے۔

یہی وہ approach ہے جو crisis management کو resilience strategy میں تبدیل کر سکتی ہے۔


عام پاکستانی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ — What It Means for Households

ایک عام شہری کے لیے geopolitical analysis کا مطلب آخرکار روزمرہ زندگی ہے۔

اگر oil prices بلند رہتی ہیں تو:

  • transport مہنگی ہو سکتی ہے؛
  • delivery charges بڑھ سکتے ہیں؛
  • food distribution costs متاثر ہو سکتی ہیں؛
  • business operating costs بڑھ سکتے ہیں؛
  • inflationary pressure برقرار رہ سکتا ہے؛
  • اور household budgets پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر commodity کی قیمت لازماً اسی شرح سے بڑھے گی۔

Domestic competition، government policy، supply conditions، exchange rate اور عالمی oil prices سب مل کر final impact طے کرتے ہیں۔

یہ distinction اہم ہے کیونکہ responsible analysis کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ risk سمجھانا ہے۔


کیا یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے؟ — What Happens Next?

تین بڑے scenarios سامنے آتے ہیں۔

Scenario 1 — Tensions Ease

اگر Strait of Hormuz اور Red Sea میں shipping conditions بہتر ہوتی ہیں اور Iran-US tensions کم ہوتی ہیں تو oil prices تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں۔

اس صورت میں پاکستان کو imported inflation اور fuel-cost pressure میں کچھ relief مل سکتا ہے۔

Scenario 2 — Prolonged Volatility

اگر conflict جاری رہتا ہے مگر supply مکمل طور پر collapse نہیں ہوتی تو oil prices volatile رہ سکتی ہیں۔

یہ پاکستان کے لیے سب سے مشکل “new normal” ہو سکتا ہے کیونکہ price spikes بار بار آ سکتے ہیں۔

Scenario 3 — Major Shipping Disruption

اگر Hormuz یا Bab el-Mandeb میں disruption مزید شدید ہوتی ہے تو global oil، freight اور insurance costs مزید بڑھ سکتی ہیں۔

اس scenario میں Pakistan Oil Crisis ایک fuel-price story سے بڑھ کر macroeconomic stability کا مسئلہ بن سکتی ہے۔


ایک اہم عالمی سبق — The Bigger Picture

FACELESS MATTERS پہلے بھی لکھ چکا ہے کہ 2026 کے global risks ایک دوسرے سے increasingly connected ہو رہے ہیں۔

World News 2026: 4 Major Global Risks to Watch

آج کی صورتحال اسی thesis کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

ایک regional war:

→ oil prices کو متاثر کرتی ہے۔

Oil prices:

→ inflation کو متاثر کرتی ہیں۔

Inflation:

→ interest rates کو متاثر کر سکتی ہے۔

Interest rates:

→ borrowing costs کو متاثر کرتی ہیں۔

اور borrowing costs:

→ investment، currencies اور economic growth تک اثر ڈال سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ Pakistan Oil Crisis کو صرف petrol pump کی خبر سمجھنا strategic mistake ہوگی۔


Pakistan Oil Crisis اور پاکستان کی Foreign Policy

پاکستان کے لیے اصل امتحان شاید یہ ہے کہ کیا وہ بیک وقت تین objectives حاصل کر سکتا ہے:

Energy security

Regional security

Diplomatic autonomy

Saudi Arabia کے ساتھ strategic relationship پاکستان کے لیے اہم ہے۔

Iran کے ساتھ stable neighbourhood بھی اہم ہے۔

Türkiye کے ساتھ defence cooperation اہم ہے۔

United States کے ساتھ economic اور diplomatic engagement بھی اہم ہے۔

اور ان سب کے درمیان پاکستان کو اپنے domestic economic limits کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران پاکستان کی foreign policy کو صرف statements سے نہیں بلکہ economic resilience سے بھی judge کرے گا۔


What Happens Next? — آگے کیا ہوگا؟

اگلے چند ہفتوں میں پانچ indicators سب سے زیادہ اہم ہوں گے:

1. Brent crude

کیا oil $100 سے مستقل اوپر رہتا ہے یا geopolitical risk کم ہونے پر واپس آتا ہے؟

2. Strait of Hormuz shipping

کیا commercial traffic normalize ہوتا ہے؟

3. Pakistan fuel prices

کیا domestic prices مزید اوپر جاتی ہیں یا global oil correction کا فائدہ ملتا ہے؟

4. Pakistan’s diplomatic role

کیا Islamabad mediator کے طور پر اپنا space برقرار رکھتا ہے؟

5. Inflation and external account

کیا energy shock پاکستان کے inflation، imports اور foreign-exchange position پر مزید دباؤ ڈالتا ہے؟

یہ پانچ indicators مل کر بتائیں گے کہ موجودہ Pakistan Oil Crisis temporary shock ہے یا ایک longer economic challenge بن رہا ہے۔


INTERNAL READING — FACELESS MATTERS

1.
Pakistan Stock Market Under Pressure: Oil Shock, Hormuz Risk and What It Means for Investors
پاکستان کے financial markets پر oil prices، Hormuz risk، inflation اور investor sentiment کے اثرات کا تازہ تجزیہ۔

2.
Iran Damaged U.S. Bahrain Base: 5 Proven Facts
بحرین میں امریکی naval facility کو پہنچنے والے نقصان اور Iran-US conflict کے wider strategic implications کا جائزہ۔

3.
Makkah Defence Alliance: 5 Essential Facts for Pakistan
پاکستان، سعودی عرب اور Türkiye کی evolving defence partnership اور اس کے regional strategic implications۔

4.
Pakistan Debt Repayment 2026: A Major Test of Fiscal Management
پاکستان کے debt management، fiscal space اور economic resilience کو سمجھنے کے لیے اہم پس منظر۔

5.
World News 2026: 4 Major Global Risks to Watch
Energy، geopolitics، trade اور global economic risks کے باہمی تعلق پر broader FACELESS MATTERS analysis۔


SOURCE VERIFICATION

اس Opinion analysis میں current developments کو متعدد sources سے cross-check کیا گیا ہے۔

Editorial distinction: اس مضمون میں اوپر دیے گئے current facts کو source reporting سے لیا گیا ہے، جبکہ ان facts سے نکلنے والے strategic conclusions، scenarios اور policy recommendations FACELESS MATTERS Opinion & Analysis ہیں۔ انہیں future events کی confirmed prediction نہیں سمجھنا چاہیے۔


EDITORIAL NOTE

یہ مضمون Opinion / Analysis category کے لیے لکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی سیاسی جماعت، حکومت، ملک یا فریق کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی energy security، economic resilience اور foreign-policy choices کو موجودہ regional crisis کے تناظر میں سمجھنا ہے۔

FACELESS MATTERS reported facts اور editorial interpretation کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

For editorial questions, corrections, source concerns or legitimate inquiries:


TOPICS

Pakistan Oil Crisis, Pakistan Fuel Prices, Iran War, Strait of Hormuz, Pakistan Foreign Policy, Energy Security, Pakistan Economy, Saudi Arabia, Türkiye, Iran, Geopolitics, Oil Prices, Inflation, Regional Security, Economic Resilience, Shipping Crisis, Pakistan 2026

By FACELESS MATTERS

FACELESS MATTERS is an independent digital media and information platform focused on technology, artificial intelligence, business, economy, Pakistan, current affairs, strategic analysis and emerging trends. Our mission is to provide informative, responsible and research-based content that helps readers understand important developments in Pakistan and around the world. FACELESS MATTERS values accuracy, transparency, responsible journalism and reader awareness.

4 thoughts on “Pakistan Oil Crisis: 5 Proven Lessons From the Iran War”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *