اسرائیل میں نئی حکومت کیسے بنے گی؟ صدر ہرزوگ کا اہم کردار اور 61 نشستوں کا امتحان

تاریخ: 31 اکتوبر 2026
خصوصی بین الاقوامی رپورٹ: بابر رشید | مرتب کردہ: FACELESS MATTERS Editorial Desk
یہ خصوصی رپورٹ بابر رشید نے FACELESS MATTERS کے لیے مرتب کی ہے، جس میں انتخابی نتائج، آئینی طریقۂ کار اور دستیاب بین الاقوامی ذرائع کا تقابلی جائزہ شامل ہے۔
اسرائیل میں نئی حکومت کیسے بنے گی؟ صدر ہرزوگ کا اہم کردار اور 61 نشستوں کا امتحان
1۔ حتمی انتخابی نتائج کیا بتاتے ہیں؟
اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد اب توجہ ووٹوں کی گنتی سے ہٹ کر حکومت سازی کے مذاکرات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے جاری کردہ حتمی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت اور اس کے اتحادی بلاک کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملی ہیں۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں مرکزی اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
120 نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے 61 ارکان کی حمایت ایک اہم اکثریتی معیار ہے۔ موجودہ نتائج میں کوئی بھی بڑا سیاسی بلاک تنہا اس عدد تک نہیں پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے باوجود نئی حکومت کی تشکیل کا معاملہ ابھی حل طلب ہے۔
حتمی نشستوں کی تقسیم یہ ہے:
| جماعت | نشستیں |
|---|---|
| لیکوڈ (Likud) | 27 |
| یاشر (Yashar) | 21 |
| بی یاخاد (B’Yachad) | 12 |
| جوائنٹ لسٹ (Joint List) | 11 |
| دی ڈیموکریٹس (The Democrats) | 8 |
| رَعَم (Ra’am) | 8 |
| اسرائیل بیتینو (Yisrael Beytenu) | 7 |
| یونائیٹڈ توراہ جوڈازم | 7 |
| اوتزما یہودیت (Otzma Yehudit) | 7 |
| شاس (Shas) | 6 |
| ریلیجس صہیونزم (Religious Zionism) | 6 |
یہ تقسیم 120 نشستیں مکمل کرتی ہے۔ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.9 فیصد رپورٹ کیا گیا، جو کئی دہائیوں میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اعداد 30 اکتوبر کو شائع ہونے والے حتمی نتائج پر مبنی ہیں۔ (ماخذ: The Times of Israel، مرکزی انتخابی کمیٹی کے نتائج کی رپورٹ)
اس انتخابی تقسیم کا مطلب یہ نہیں کہ 53 نشستوں والا بلاک لازماً حکومت بنائے گا یا 48 نشستوں والا اپوزیشن بلاک لازماً ناکام ہوگا۔ پارلیمانی نظام میں حکومت بنانے کے لیے سب سے بڑی جماعت ہونا اور کنیسٹ کا اعتماد حاصل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی جماعت کو کم نشستوں کے باوجود دوسرے سیاسی گروپوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ نشستوں والی جماعت بھی مطلوبہ اتحاد بنانے میں ناکام رہ سکتی ہے۔
2۔ صدر اسحاق ہرزوگ کا آئینی کردار
اسرائیل میں صدر کا عہدہ روزمرہ حکومتی انتظام چلانے کے لیے نہیں ہوتا۔ وزیراعظم اور کابینہ حکومت چلاتے ہیں، جبکہ صدر ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بعض آئینی اور نمائشی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ تاہم حکومت سازی کے مرحلے میں صدر ہرزوگ کو ایک اہم قانونی اختیار حاصل ہے، جو نئی حکومت کی تشکیل کے آئینی عمل کا آغاز کرتا ہے۔
اس مرحلے میں صدر کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون سا امیدوار مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ جیتنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مشاورت میں جماعتیں صدر کو بتاتی ہیں کہ وہ کس رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کا موقع دینے کی حمایت کرتی ہیں۔
عام سیاسی روایت میں سب سے بڑی جماعت کے رہنما کو پہلے موقع دینے کا رجحان رہا ہے، لیکن یہ کوئی خودکار یا لازمی اصول نہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت کا سربراہ ہی مینڈیٹ حاصل کرے۔ صدر ہرزوگ جماعتوں کی سفارشات اور امیدوار کی حکومت بنانے کی عملی صلاحیت کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔
اس لیے نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت کا 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بننا اہم ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ صدر لازماً نیتن یاہو کو ہی پہلا موقع دیں گے۔ اسی طرح اپوزیشن کے امیدوار کو بھی صرف مخالف جماعتوں کی تعداد گن کر خودکار طور پر مینڈیٹ نہیں ملتا۔ صدر جماعتوں کی سفارشات اور حکومت بنانے کی عملی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہیں۔
صدر ہرزوگ نے 28 اکتوبر کو اپنے پہلے عوامی بیان میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ایک اور انتخاب سے بچنے کے لیے کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو حکومت سازی کے لیے ممکنہ راستوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ صدر کا فوری مقصد آئینی عمل کو آگے بڑھانا اور سیاسی جماعتوں کو قابلِ عمل معاہدے کی طرف لانا ہے۔ (ماخذ: The Times of Israel، 28 اکتوبر 2026)
3۔ حکومت بنانے کا پہلا مینڈیٹ کیسے ملتا ہے؟
اسرائیلی قانون کے تحت سرکاری انتخابی نتائج کی اشاعت کے بعد صدر ہرزوگ کو پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کرکے ایک رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کا کام سونپنا ہوتا ہے۔ اس شخص کو صدر کی جانب سے مینڈیٹ دیا جاتا ہے۔
2026 کے انتخاب کے بعد مرکزی انتخابی کمیٹی نے حتمی نشستوں کی تقسیم 30 اکتوبر کو جاری کی۔ حتمی نتائج صدر ہرزوگ کو 4 نومبر کو پیش کیے جانے کا شیڈول بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد صدر جماعتی رہنماؤں سے باضابطہ مشاورت کریں گے۔ صدر کے ادارے کی شائع کردہ وضاحت کے مطابق سرکاری نتائج کی اشاعت کے بعد حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے کے لیے سات دن کی قانونی مدت مقرر ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: صدر ہرزوگ جس امیدوار کو مینڈیٹ دیتے ہیں، وہ فوری طور پر وزیراعظم نہیں بن جاتا۔ اسے مختلف جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے کابینہ، حکومتی پالیسی، وزارتوں کی تقسیم اور پارلیمانی حمایت کے بارے میں معاہدہ کرنا ہوتا ہے۔
مثلاً اگر کسی امیدوار کے پاس اپنی جماعت کی 27 نشستیں ہوں تو اسے حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ یہ حمایت کابینہ میں شمولیت، تحریری اتحادی معاہدے، اعتماد کے ووٹ کی حمایت یا بعض صورتوں میں باہر سے پارلیمانی تعاون کی شکل میں ہو سکتی ہے۔
اسی لیے اسرائیل میں نئی حکومت کا قیام صرف صدر ہرزوگ کے ایک اعلان سے مکمل نہیں ہوتا۔ صدر کا فیصلہ مذاکرات کا دروازہ کھولتا ہے، جبکہ اصل کامیابی امیدوار کے سیاسی معاہدے اور کنیسٹ کے اعتماد سے مشروط ہوتی ہے۔
4۔ 28 دن اور 14 دن کی مہلت کا طریقۂ کار
اسرائیل کے بنیادی قانون (Basic Law: The Government) میں صدر ہرزوگ کی جانب سے دیے جانے والے حکومت سازی کے مینڈیٹ کے لیے وقت کی حد مقرر ہے۔
پہلا مرحلہ: 28 دن
جس رکنِ کنیسٹ کو صدر حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیتے ہیں، اسے ابتدائی طور پر 28 دن ملتے ہیں۔ اس مدت میں اسے اتحادی جماعتوں سے مذاکرات، حکومتی پالیسی پر اتفاق، وزارتوں کی تقسیم اور کنیسٹ میں اعتماد حاصل کرنے کا راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔
دوسرا مرحلہ: مزید 14 دن تک توسیع
اگر امیدوار 28 دن میں مذاکرات مکمل نہ کر سکے تو صدر سے اضافی وقت مانگ سکتا ہے۔ صدر قانون کے مطابق مجموعی طور پر 14 دن تک توسیع دے سکتے ہیں۔ اس طرح پہلے امیدوار کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت 42 دن بن سکتی ہے۔
یہ توسیع خودکار حق نہیں؛ صدر ہرزوگ اپنے آئینی اختیار کے تحت اضافی وقت دے سکتے ہیں۔ امیدوار کو یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ اضافی وقت سے معاہدہ مکمل ہونے کا امکان موجود ہے۔
کنیسٹ میں اعتماد کا ووٹ
جب امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے تو وہ صدر اور کنیسٹ کے اسپیکر کو اطلاع دیتا ہے۔ اس کے بعد کنیسٹ کا اجلاس بلایا جاتا ہے جہاں مجوزہ حکومت کی پالیسی، کابینہ اور وزارتوں کی ذمہ داریوں کا اعلان کیا جاتا ہے اور اعتماد کا ووٹ طلب کیا جاتا ہے۔
حکومت اس وقت قائم ہوتی ہے جب کنیسٹ اسے اعتماد دے۔ لہٰذا صدر کا مینڈیٹ اور پارلیمان کا اعتماد دو الگ مراحل ہیں۔
5۔ پہلا امیدوار ناکام ہو تو کیا ہوگا؟
اگر پہلا امیدوار مقررہ مدت میں حکومت نہ بنا سکے، صدر ہرزوگ کو اپنی ناکامی سے آگاہ کر دے، یا اس کی پیش کردہ حکومت کنیسٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکے تو آئینی عمل ختم نہیں ہوتا۔
قانون کے مطابق صدر کے پاس اگلے مرحلے میں دو بنیادی راستے ہوتے ہیں:
- کسی دوسرے رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کا موقع دینا۔
- کنیسٹ کے اسپیکر کو مطلع کرنا کہ موجودہ حالات میں حکومت بنانے کا کوئی قابلِ عمل امکان نظر نہیں آتا۔
دوسرے امیدوار کو عام طور پر 28 دن کی مدت ملتی ہے، لیکن پہلے امیدوار کی طرح مزید 14 دن کی توسیع کا اختیار اس مرحلے میں دستیاب نہیں ہوتا۔
اس مرحلے میں صدر ہرزوگ دوبارہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی کر سکتے ہیں تاکہ دوسرے امیدوار کے لیے حمایت کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ کیا کوئی دوسرا امیدوار زیادہ جماعتوں کی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔
اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو اپوزیشن رہنما کو موقع مل سکتا ہے، لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کنیسٹ میں اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت دکھائے۔ اسی طرح کسی جماعت کا سربراہ اگر صدر سے مینڈیٹ حاصل کر لے مگر اتحادی معاہدہ نہ بنا سکے تو صرف اس منصب سے حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔
6۔ 61 ارکان کی تحریری درخواست کا راستہ
اگر پہلا اور دوسرا امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہیں، یا صدر یہ سمجھیں کہ کسی امیدوار کے ذریعے حکومت بننے کا امکان موجود نہیں، تو قانون ایک آخری پارلیمانی راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔
اس مرحلے میں کنیسٹ کے کم از کم 61 ارکان تحریری طور پر صدر سے درخواست کر سکتے ہیں کہ حکومت بنانے کی ذمہ داری کسی مخصوص رکنِ کنیسٹ کو دی جائے۔ اس درخواست میں نامزد امیدوار کی رضامندی بھی ضروری ہے۔
اگر قانونی شرائط پوری ہوں تو صدر ہرزوگ کو مقررہ مدت میں اس امیدوار کو مینڈیٹ دینا ہوتا ہے۔ اس تیسرے مرحلے کے امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 14 دن ملتے ہیں۔
اگر اس مدت میں بھی حکومت نہ بن سکے، یا مطلوبہ تحریری حمایت حاصل نہ ہو، تو کنیسٹ تحلیل ہونے اور نئے انتخابات کی طرف جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ نئے انتخابات کے لیے قانون میں 90 دن کی مدت مقرر ہے۔
اس طریقۂ کار کی اہمیت یہ ہے کہ صدر ہرزوگ کے ابتدائی مینڈیٹ کے بعد بھی حکومت سازی کا راستہ کھلا رہتا ہے؛ پارلیمان کے ارکان ایک مخصوص امیدوار کے حق میں تحریری اکثریت ظاہر کرکے آئینی عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے قانون ایک 21 روزہ مدت فراہم کرتا ہے، جس میں کنیسٹ کے کم از کم 61 ارکان کسی متفقہ رکنِ کنیسٹ کو نامزد کرتے ہوئے صدر کو تحریری درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر درخواست قانونی شرائط پوری کرتی ہو تو صدر کو دو دن کے اندر نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینا ہوتا ہے۔ اس امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے 14 دن ملتے ہیں۔
7۔ نیتن یاہو، گادی آئزنکوٹ اور عرب جماعتوں کے سامنے کیا راستے ہیں؟
حتمی انتخابی نتائج کے بعد تین بڑے سیاسی گروپوں کی پوزیشن اہم ہے:
نیتن یاہو کا بلاک — 53 نشستیں
نیتن یاہو کے حامی بلاک کو اکثریت تک پہنچنے کے لیے مزید حمایت درکار ہے۔ لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت ہے، لیکن اتحادی جماعتوں کی مجموعی تعداد 53 پر رک گئی ہے۔ اس بلاک کو حکومت بنانے کے لیے کم از کم آٹھ مزید ارکان کی حمایت درکار ہوگی، اگر وہ 61 نشستوں کا مکمل اتحاد بنانا چاہتا ہے۔
اس کے لیے نیتن یاہو کو دیگر جماعتوں سے مذاکرات، ممکنہ اتحاد یا کسی وسیع تر سیاسی معاہدے پر غور کرنا ہوگا۔ تاہم کون سی جماعت ان کے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ ہوگی، یہ ابھی طے شدہ نہیں۔
گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن — 48 نشستیں
مرکزی اپوزیشن بلاک کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ اسے 61 تک پہنچنے کے لیے مزید 13 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ عددی اعتبار سے عرب قیادت والی جماعتوں کی 19 نشستیں اس حساب میں اہم ہیں، لیکن ان تمام نشستوں کو ایک ہی امیدوار کی غیر مشروط حمایت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اپوزیشن کے اندر بھی مختلف نظریاتی رجحانات اور عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔ کچھ رہنما عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض اس پر تحفظات رکھتے ہیں۔
عرب قیادت والی جماعتیں — 19 نشستیں
جوائنٹ لسٹ کی 11 اور رَعَم کی 8 نشستیں مجموعی طور پر 19 بنتی ہیں۔ یہ تعداد حکومت سازی کے مذاکرات میں اہم پارلیمانی وزن رکھتی ہے۔ تاہم ان دونوں جماعتوں کے سیاسی مؤقف، ترجیحات اور حکومتی اتحاد میں شمولیت کے بارے میں رویے کو یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان جماعتوں کے لیے عرب شہریوں کے علاقوں میں جرائم کی روک تھام، بلدیاتی بجٹ، تعلیم، رہائش، مساوی شہری حقوق اور فلسطینی مسئلے سے متعلق مطالبات اہم ہو سکتے ہیں۔ وہ حکومت میں شامل ہونے، باہر سے اعتماد کے ووٹ کی حمایت کرنے یا مخصوص معاملات پر تعاون کرنے کے مختلف راستوں پر غور کر سکتی ہیں۔
اس لیے 19 نشستیں ایک اہم عدد ضرور ہیں، لیکن ان کا سیاسی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ جماعتیں آپس میں اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ کس نوعیت کا معاہدہ کرتی ہیں۔
8۔ عبوری حکومت کے اختیارات
جب تک نئی حکومت قائم نہیں ہوتی، موجودہ حکومت اپنے فرائض انجام دیتی رہتی ہے۔ اسے عبوری یا Caretaker Government کہا جاتا ہے۔
اس کا مقصد ریاستی انتظام، روزمرہ حکومتی امور، سکیورٹی اور ضروری سرکاری خدمات کو جاری رکھنا ہے۔ حکومت سازی کے مذاکرات طویل ہونے کی صورت میں بھی ملک کا انتظام مکمل طور پر معطل نہیں ہوتا۔
عبوری حکومت کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے بارے میں قانونی اور آئینی اصول موجود ہیں۔ تاہم سیاسی روایت اور عدالتی رہنمائی کے تحت عبوری حکومت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ایسے بڑے فیصلوں سے گریز کرے جنہیں نئی منتخب حکومت کے لیے چھوڑا جا سکتا ہو، سوائے ان معاملات کے جہاں فوری ریاستی ضرورت موجود ہو۔
اس لیے نیتن یاہو اس وقت تک وزیراعظم کے منصب پر برقرار رہتے ہیں جب تک نئی حکومت کنیسٹ کا اعتماد حاصل کرکے باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھال نہیں لیتی۔ انتخابی نتائج کا اعلان خود بخود موجودہ کابینہ کو ختم نہیں کرتا۔
9۔ نئی کنیسٹ کب حلف اٹھائے گی؟
2026 کے انتخاب کے بعد نئی 26ویں کنیسٹ کا اجلاس 10 نومبر کو ہونے کا شیڈول دیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور پارلیمانی کارروائی کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔
یہ تاریخ حکومت سازی کے مذاکرات سے الگ اہمیت رکھتی ہے۔ نئی کنیسٹ کے ارکان اپنے عہدوں کا حلف اٹھا سکتے ہیں، چاہے اس وقت تک نئی حکومت تشکیل نہ پائی ہو۔
صدر ہرزوگ کے آئینی کردار کے ساتھ پارلیمانی اسپیکر کے انتخاب، کمیٹیوں کی تشکیل اور ایوان کے ایجنڈے پر اثرانداز ہونے کے لیے جماعتوں کے درمیان تعاون بھی اہم ہو سکتا ہے۔ اس طرح حکومت بننے سے پہلے بھی پارلیمان میں سیاسی قوتوں کے درمیان نئے تعلقات سامنے آ سکتے ہیں۔
حتمی انتخابی نتائج صدر کو 4 نومبر کو پیش کیے جانے اور نئی کنیسٹ کے 10 نومبر کو حلف اٹھانے کا شیڈول حکومت سازی کے اگلے چند ہفتوں کو اہم بنا دیتا ہے۔ یہ تاریخیں دستیاب انتخابی رپورٹنگ کے مطابق ہیں؛ سرکاری شیڈول میں تبدیلی کی صورت میں انہیں اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
10۔ اسرائیل، فلسطین اور خطے پر ممکنہ اثرات
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل صرف داخلی سیاست کا معاملہ نہیں۔ نئی کابینہ کی ساخت اور اتحادی معاہدہ فلسطینی علاقوں، غزہ، مغربی کنارے، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
تاہم یہ ضروری ہے کہ حکومت سازی کے امکانات کو کسی مخصوص خارجہ پالیسی کے یقینی نتیجے کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ کسی نئی حکومت کے اقدامات اس کے اتحادی معاہدے، پارلیمانی قوت، سلامتی کی صورتِ حال اور سفارتی حالات پر منحصر ہوں گے۔
فلسطینی مسئلہ: عرب جماعتوں کی پارلیمانی حمایت کے لیے فلسطینی ریاست، غزہ کے مستقبل، مغربی کنارے میں حالات اور عرب شہریوں کے حقوق جیسے موضوعات مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اسرائیلی اپوزیشن کے تمام رہنما فلسطینی ریاست کے معاملے پر ایک ہی مؤقف نہیں رکھتے۔
غزہ اور جنگ کے بعد انتظام: نئی حکومت کی تشکیل کے بعد غزہ میں انسانی امداد، انتظامی ڈھانچے، جنگ بندی اور اسرائیلی سلامتی سے متعلق پالیسیوں پر بحث جاری رہ سکتی ہے۔ ان معاملات میں کسی بڑی تبدیلی کے لیے حکومت کے اندر اتفاق اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے درکار ہوں گے۔
عرب ممالک کے ساتھ تعلقات: مصر، اردن، قطر اور سعودی عرب کے لیے اسرائیل فلسطین تنازع اور علاقائی استحکام اہم امور ہیں۔ نئی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق سفارتی رابطوں کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے، مگر کسی نئے معاہدے یا تعلقات کی بحالی کو ابھی طے شدہ نہیں کہا جا سکتا۔
ایران کے ساتھ تعلقات: اسرائیل اور ایران کے درمیان سلامتی کے اختلافات کسی بھی نئی اسرائیلی حکومت کے لیے اہم رہیں گے۔ حکومت کی تبدیلی سے پالیسی کے لہجے یا سفارتی حکمتِ عملی میں فرق آ سکتا ہے، لیکن عملی تبدیلیوں کے لیے سرکاری فیصلے اور اقدامات دیکھنا ضروری ہوگا۔
11۔ تین ممکنہ سیاسی منظرنامے
منظرنامہ اول: نیتن یاہو کے بلاک کی توسیع
اگر نیتن یاہو دیگر جماعتوں سے مذاکرات کرکے 61 یا اس سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ وزارتوں، حکومتی ترجیحات اور پالیسی معاہدوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔
منظرنامہ دوم: اپوزیشن اور عرب جماعتوں کے درمیان تعاون
اگر گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں عرب جماعتوں کی حمایت قبول کرنے کے لیے کسی قابلِ عمل معاہدے پر پہنچ جائیں تو متبادل حکومت کا راستہ بن سکتا ہے۔ اس تعاون کی نوعیت کابینہ میں شمولیت، بیرونی حمایت یا مخصوص پارلیمانی معاملات پر معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
منظرنامہ سوم: سیاسی تعطل اور دوبارہ انتخابات
اگر دونوں بڑے سیاسی گروپ مطلوبہ حمایت جمع کرنے میں ناکام رہیں تو حکومت سازی کے مختلف آئینی مراحل کے بعد نئے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عبوری حکومت ریاستی امور جاری رکھے گی، جبکہ سیاسی جماعتوں کو دوبارہ عوام سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان تینوں امکانات میں سے کسی ایک کو حتمی نتیجہ قرار دینا ابھی درست نہیں۔ صدر کی مشاورت، جماعتوں کی سفارشات اور اتحادی مذاکرات ہی اگلے مرحلے کا تعین کریں گے۔
FACELESS MATTERS تجزیہ — اصل اختیار کہاں ہے؟
اسرائیل میں صدر کا کردار اہم ضرور ہے، لیکن حکومت سازی کا اصل فیصلہ پارلیمانی حمایت سے جڑا ہوا ہے۔ صدر امیدوار کو پہلا موقع دیتے ہیں، مگر حکومت قائم کرنے کے لیے اسے کنیسٹ کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔
2026 کے نتائج میں 53، 48 اور 19 نشستوں کی تقسیم نے تینوں بڑے سیاسی گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹی جماعتوں کے پاس بھی اپنی نشستوں کے تناسب سے زیادہ سیاسی اثر پیدا کرنے کا موقع ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی حمایت کسی امیدوار کو اکثریت کے قریب یا اس سے آگے پہنچا سکتی ہے۔
لیکن عددی امکان اور سیاسی معاہدہ ایک چیز نہیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں بظاہر اہم ہیں، مگر ان کے تمام ارکان کی حمایت خودکار طور پر کسی ایک امیدوار کے ساتھ منسلک نہیں۔ اسی طرح اپوزیشن کے 48 ارکان بھی لازماً ایک ہی حکمتِ عملی پر متفق نہیں ہوں گے۔
اس لیے Israel Government Formation کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کس بلاک نے کتنی نشستیں حاصل کیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سی جماعت کس امیدوار کو اعتماد کا ووٹ دینے پر تیار ہے، کس شرط پر تعاون کرے گی، اور کیا اتحادی معاہدہ حکومت کو برقرار رکھنے کے قابل ہوگا۔
صدر ہرزوگ کا امتحان یہ ہوگا کہ وہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق ایسے امیدوار کو موقع دیں جس کے پاس حکومت بنانے کا قابلِ عمل راستہ ہو۔ ان کا کردار اہم ہے، لیکن آخری سیاسی اختیار کنیسٹ کے اعتماد کے ووٹ میں ظاہر ہوگا۔
مستقبل کے لیے کن اشاروں پر نظر رکھنی چاہیے؟
آنے والے دنوں میں پانچ پیش رفتیں خاص اہمیت رکھیں گی:
- صدر کو سرکاری انتخابی نتائج کب اور کس شکل میں موصول ہوتے ہیں؟
- کون سی جماعتیں کس امیدوار کے حق میں صدر کو سفارش پیش کرتی ہیں؟
- کیا نیتن یاہو کا بلاک مزید اتحادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے؟
- کیا اپوزیشن جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کی شرائط پر اتفاق کر پاتی ہیں؟
- کیا 10 نومبر کو نئی کنیسٹ کے اجلاس کے بعد حکومت سازی کے مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت سامنے آتی ہے؟
ان سوالات کے جوابات سے ہی واضح ہوگا کہ اسرائیل ایک نئی اتحادی حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے، موجودہ وزیراعظم کی قیادت میں وسیع تر اتحاد بن رہا ہے یا سیاسی تعطل مزید طول پکڑتا ہے۔
عام سوالات — FAQ
کیا صدر ہرزوگ خود اسرائیل کا نیا وزیراعظم منتخب کریں گے؟
نہیں۔ صدر کسی رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیتے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے لیے امیدوار کو کنیسٹ کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔
کیا سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہے؟
سب سے بڑی جماعت کو سیاسی طور پر اہم پوزیشن حاصل ہوتی ہے، لیکن صدر کے فیصلے میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کون سا امیدوار پارلیمانی اعتماد حاصل کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے بڑی جماعت کا سربراہ خودکار طور پر وزیراعظم نہیں بن جاتا۔
حکومت بنانے کے لیے کتنی نشستیں درکار ہیں؟
120 رکنی کنیسٹ میں 61 نشستیں ایک مکمل اکثریتی اتحاد کا بنیادی معیار ہیں۔ اعتماد کے ووٹ کا عملی نتیجہ ووٹنگ کے حالات اور ارکان کی شرکت پر بھی منحصر ہو سکتا ہے۔
پہلے امیدوار کو کتنے دن ملتے ہیں؟
ابتدائی طور پر 28 دن۔ صدر مجموعی طور پر 14 دن تک اضافی مہلت دے سکتے ہیں، یوں پہلی کوشش کی زیادہ سے زیادہ مدت 42 دن ہو سکتی ہے۔
اگر پہلا امیدوار ناکام ہو جائے تو کیا ہوگا؟
صدر دوسرے رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ دوسرے امیدوار کو 28 دن ملتے ہیں، اور اس مرحلے پر مزید توسیع کا اختیار نہیں ہوتا۔
کیا عرب جماعتیں نئی حکومت کا فیصلہ کر سکتی ہیں؟
ان کی 19 نشستیں حکومت سازی کے مذاکرات میں اہم ہو سکتی ہیں، لیکن ان جماعتوں کی حمایت کسی ایک امیدوار کے لیے یقینی یا غیر مشروط نہیں۔ ان کا کردار مذاکرات اور سیاسی معاہدوں پر منحصر ہوگا۔
کیا نیتن یاہو فوری طور پر وزیراعظم نہیں رہیں گے؟
نہیں۔ وہ نئی حکومت کے قائم ہونے اور ذمہ داریاں سنبھالنے تک موجودہ وزیراعظم کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔
اگر کوئی حکومت نہ بنا سکے تو کیا ہوگا؟
قانون میں مزید آئینی مراحل موجود ہیں، جن میں 61 ارکان کی تحریری درخواست کے ذریعے تیسرے امیدوار کو موقع دینا شامل ہے۔ اگر یہ راستہ بھی ناکام ہو تو کنیسٹ تحلیل اور نئے انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ — Conclusion
اسرائیل کے 2026 کے انتخابات نے حکومت سازی کے لیے ایک پیچیدہ پارلیمانی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ نیتن یاہو کے حامی بلاک کی 53، مرکزی اپوزیشن کی 48 اور عرب قیادت والی جماعتوں کی 19 نشستیں کسی بھی امیدوار کے لیے اتحادی مذاکرات کو ضروری بناتی ہیں۔
صدر اسحاق ہرزوگ کا کردار اس عمل میں اہم ہے، کیونکہ وہ جماعتوں سے مشاورت کے بعد حکومت بنانے کا پہلا مینڈیٹ دیتے ہیں۔ لیکن ان کا فیصلہ کسی امیدوار کو خودکار طور پر وزیراعظم نہیں بناتا۔ اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب امیدوار اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے کنیسٹ کا اعتماد حاصل کرے گا۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اسرائیل میں نئی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ اگر جماعتیں اپنے اختلافات کم نہ کر سکیں تو سیاسی تعطل اور نئے انتخابات کا امکان برقرار رہے گا۔ اس دوران موجودہ حکومت عبوری حیثیت میں ریاستی امور انجام دیتی رہے گی۔
FACELESS MATTERS کے نزدیک اس انتخاب کا بنیادی سبق یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں اقتدار صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے سے نہیں ملتا؛ اسے سیاسی معاہدے، آئینی طریقۂ کار اور منتخب پارلیمان کے اعتماد سے قائم کرنا پڑتا ہے۔ صدر ہرزوگ اس عمل کا اہم آئینی دروازہ کھولیں گے، لیکن نئی حکومت کی اصل بنیاد کنیسٹ میں حاصل ہونے والی حمایت ہوگی۔

INTERNAL READING — FACELESS MATTERS
Explore more verified international news, original research, premium analysis and reader-focused reports from FACELESS MATTERS.
1. Israel’s Arab Voters and the Netanyahu Challenge: What the Election Could Change
2. Khamenei Killing: 3 Strategic Lessons From Yair Golan
3. Pakistan’s Latest News: 7 Critical Updates You Need to Know
4. Pakistan SCO Chairmanship 2026–27: 5 Critical Tests After Bishkek
5. Pezeshkian Regional Peace: Hope for West Asia in 2026
6. Pakistan Energy Crisis 2026: Oil, LNG and Power Costs
7. Punjab Electric Bike Registration: 95% Fee Exemption and 99% Annual Tax Concession
8. Maulana Fazlur Rehman: 7 Critical National Security Questions
9. Rule of Law Pakistan: The Foundation of a Fair and Functional State — Episode 5
10. Why Systems Fail Pakistan — Episode 3: From Good Rules to Weak Results
SOURCES & EDITORIAL NOTE
1. اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے حتمی نتائج — The Times of Israel
30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ حتمی نشستوں کی تقسیم، 77.9 فیصد ٹرن آؤٹ، اور 4 نومبر کو نتائج صدر کو پیش کیے جانے کی رپورٹ۔
2. Associated Press — اسرائیل میں انتخابی نتائج اور حکومت سازی
53، 48 اور 19 نشستوں کی تقسیم، حکومت سازی کے مذاکرات، عبوری حکومت اور 10 نومبر کو نئی کنیسٹ کے حلف سے متعلق رپورٹ۔
3. اسرائیلی صدر کا ادارہ — The Institution of the Presidency
صدر کی مشاورت، حکومت بنانے کا مینڈیٹ، 28 دن اور 14 دن کی توسیع سمیت آئینی طریقۂ کار کی وضاحت۔
https://www.president.gov.il/en/institution
4. اسرائیلی کنیسٹ — Forming a Government
Basic Law: The Government کے تحت حکومت سازی کے قانونی مراحل، دوسری کوشش اور 61 ارکان کی تحریری درخواست کی وضاحت۔
https://main.knesset.gov.il/EN/About/Lexicon/Pages/formation-government.aspx
5. Israel Democracy Institute — Elections 101: Forming a Government After Elections
اسرائیل کے پارلیمانی نظام، صدر کے اختیار، اتحادی مذاکرات اور کنیسٹ کے اعتماد کے ووٹ کی وضاحت۔
https://en.idi.org.il/articles/63982
6. Reuters — What Happens Next After Israel’s Election?
انتخابی عمل، جماعتوں کی نشستوں اور حکومت سازی کے اگلے مراحل سے متعلق رپورٹ۔
7. Daily Jang — فراہم کردہ خبر
صارف کی فراہم کردہ خبر کا عنوان: ’’اسرائیل میں نئی حکومت کیسے بنے گی؟ صدر ہرزوگ کا اہم کردار‘‘۔ اصل صفحہ اس تحقیق کے دوران براہِ راست دستیاب نہیں ہو سکا؛ اس لیے اس کے متن سے کوئی غیر مصدقہ تفصیل منسوب نہیں کی گئی۔
https://jang.com.pk/news/1629261
Editorial Note
یہ رپورٹ 31 اکتوبر 2026 تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ 27 اکتوبر کے انتخابات کے حتمی نتائج کو ابتدائی ایگزٹ پولز سے الگ رکھا گیا ہے۔ صدر کے آئینی اختیارات، حکومت بنانے کی مدت اور کنیسٹ کے اعتماد کے ووٹ کو سرکاری اداروں اور معتبر ادارہ جاتی ذرائع سے جانچا گیا ہے۔ ممکنہ اتحادی راستوں کو منظرناموں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، انہیں طے شدہ سیاسی فیصلے نہیں کہا گیا۔
